انیس سالہ مسلمان طالبہ نےمکمل لباس زیب تن کرکے باڈی بلڈنگ چیمپئن شپ میں حصہ لیااور مقابلہ جیت لیا

ڈھاکہ(نیوز ڈیسک)بنگلہ دیش میں پہلی بار ہونے والی خواتین باڈی بلڈنگ چیمپئن شپ کا مقابلہ 19 سالہ مسلم طالبہ نے جیت لیا ہے۔بنگلہ دیش کی پہلی باڈی بلڈر کا ٹائٹل جیتنے والی احونا رحمان اور دیگر مقابلے میں شریک خواتین نے تنقید اور تنازعے سے بچنے کے لیے مکمل لباس زیب تن کر کے باڈی بلڈنگ مقابلے میں شرکت کی۔مقابلہ جیتنے والی پہلی خاتون باڈی بلڈر احونا رحمان نے ملک بھر کی لڑکیوں پر زور دیا کہ وہ ایسے کھیلوں میں شرکت کے لیے ہچکچانے کے بجائے اس کی تقلید کریں۔مقابلہ جیتنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹائٹل جیتنے کے لیے میں نے دن رات ایک کیا، مسلسل ورزش کی، متوازن خوراک لی اور مثبت سوچ کے ساتھ مقابلے میں شرکت کی۔آحونا رحمان کا کہنا تھا کہ یہ بات میرے ذہن میں کبھی داخل نہیں ہوئی کہ شاید کوئی میرے جسم دکھانے سے مجھ پر تنقید کرے گا۔ اس حوالے سے

فٹنس سینٹر چلانے والے میرے بھائی نے ہمیشہ میری حوصلہ افرائی کی۔انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کی جانب سے ہمیں بتایا گیا کہ مقابلے میں پہننے کے لیے خاص لباس دیا جائیگا۔ مہیا کردہ لباس بنگلہ دیش کے عمومی ماحول کے حساب سے مکمل مطابقت رکھتا تھا۔بنگلہ دیش باڈی بلڈنگ کے جنرل سیکرٹری نذرالاسلام کا کہنا ہے کہ خواتین باڈی بلڈنگ چیمئن شپ مقابلے کو عوامی حلقوں کی جانب سے زبردست پزیرائی ملی ہے۔ مقابلہ کرانے کا مقصد کھیل اور صحت دونوں کو فروغ دینا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم اپنے مذہبی اور ثقافتی روایات کی وجہ سے ڈریس کوڈ کے حوالے سے بڑے محتاط تھے۔ ہم نے لڑکیوں کے لیے لمبی آستین والی شرٹس اور لیگنگ کا انتخاب کیا، اور یہ ڈریس مکمل آرام دہ تھا۔نذرالاسلام نے پیش گوئی کی کہ اس مقابلے کے بعد بنگلہ دیش بھر میں خواتین جیمنیزم کی تعداد میں اضافہ ہوگا، جہاں خواتین کے لیے ملازمت کے مواقے بھی پیدا ہونگے۔