پولیس کیلئے مفت سبزیاں۔۔۔!خالد خان

ـوزیراعظم عمران خان انتخابی مہم کے دوران اپنے خطاب میں اکثر پولیس اورپٹواریوں پر بات کرتے تھے ۔جن سے دلی محبت ہوتی ہے تو بارہا ان کانام زبان پر آ جاتا ہے۔وزیراعظم عمران خان پولیس اور پٹواریوں کی اصلاح کی خواہش کااظہار کرتے تھے۔ وطن عزیز میں پولیس اور پٹواری کا نام ہوگیا ہے حالانکہ دیگر محکمہ جات کے اہلکار ان سے بھی چند قدم آگے ہیں۔”چھانی تھی خاک ہم نے بھی صحرائے نجد کی۔۔۔ مجنون کا نام ہوگیا قسمت کی بات ہے”بہرحال پولیس اور پٹواریوں کی قسمت جاگ گئی کہ ان کا نام ہوگیا ہے ورنہ اس دشت میں ان کے بڑے بڑے ہم رکاب موجود ہیں۔ معلوم ہوا کہ آج کل پولیس اہلکار سبزیاں شوق سے کھاتے ہیں اور خصوصی طور پر آلو کے چپس بہت پسند کرتے ہیں۔آلو میں پروٹین،کیلشیم، فولاد، فاسفورس اور

وٹامنز شامل ہیں۔ سو گرام آلو میں 97کیلوریز ہوتے ہیں ۔یہ دبلے پتلے افراد کیلئے بڑی نعمت ہے ،وہ روزانہ آلو کھائیں تو بہت جلد موٹے ہوجاتے ہیں۔ ماہرین غذا کا خیال ہے کہ انسان بنیادی طور سبزی خور ہے۔ ویسے سبزیوں کے بہت زیادہ فائدے ہیں۔ صحت کی ضامن سبزیاں ہیں۔سبزیاں کھانے سے مختلف امراض سے بچا جاسکتا ہے۔سبزیاں کھانے والوں کی عمر گوشت خوروں سے زیادہ ہوتی ہے۔غالباً اس لئے وزیراعظم عمران خان کے حلقہ میانوالی کے رکشہ ڈرائیورحضرات نے پولیس کو فری سبزیاں فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ہماری پولیس صحت مند اور تندرست ہو، وہ چوروں اور ڈاکوئوں کو پکڑ سکیں۔دراصل پولیس کو فری سبزی کے بارے ایک خبر اخبارات کی زینت بنی اور خبر کچھ یوں ہے۔”وزیراعظم عمران خان کے آبائی حلقہ میانوالی میں رکشہ ڈرائیورز کا ایک انوکھا مطالبہ سامنے آیا ہے۔ان ڈرائیورزکا کہنا ہے کہ حکومت پولیس اہلکاروں کو فری آلو ،پیاز اور دیگر سبزیاںفراہم کریں ورنہ ہم رکشہ اور لوڈرز کی ہڑتال کردیں گے جس سے علاقہ بھر میں سبزی، فروٹ سمیت دیگر اشیاء کی فراہمی معطل ہوجائے گی اور عوام الناس کو مشکلات کا سامنا کرناپڑے گا۔جب ان سے پولیس سے بے لوث ہمدردی کی وجہ پوچھی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ میانوالی کے شہر دائود خیل شرقی چیک پوسٹ پر تعینات پولیس اہلکار صبح سویرے سبزی منڈی سے مارکیٹوں کی طرف سبزی لے جانے والے لوڈرز رکشہ سے زبردستی سبزی اتار لیتے ہیں اور منع کرنے پر لوڈررکشہ تھانہ میں بند کرنے کی دھمکی دیتے ہیں۔ابراہیم نامی رکشہ ڈرائیور نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم علی الصبح دکانداروں کی سبزی لادکر لاتے ہیں۔راستے میں چیک پوسٹ پر پولیس اہلکارزبردستی سبزی اتارلیتے ہیں۔

ہم نے بتایا بھی ہے کہ سبزی دکانداروں کی امانت ہوتی ہے مگر پولیس والوں پر کوئی اثر نہیں ہوتا ہے۔اس کا کہنا تھا کہ ایک پولیس اہلکار خاص طورپر آلو اُتارتا ہے اور کہتا ہے کہ ان کے چپس بڑے مزے کے بنتے ہیں اور ہم سب گھروالے بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔ان غریب رکشہ ڈرائیوروں نے کہا ہے کہ ہم میں اتنی ہمت تو نہیں کہ پولیس کے خلاف آواز اٹھاسکیں،اس لیے حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ پولیس والوں کو فری سبزی فراہم کی جائے تاکہ وہ کسی غریب کی زبردستی سبزی اتارے بغیرحق حلال کے چپس کھاسکیں اور سلاد سمیت سبزی کے دیگر استعمالات سے بخوبی مستفید ہوسکیں۔” حقیقت یہ ہے کہ جناح بیراج شرقی چیک پوسٹ کے اہلکار وں کی سبزی خوری کی عادت کا چرچا عام ہوا حالانکہ ٹولہ بانگی خیل،کالاباغ اور

درہ تنگ سمیت تقریباً تمام چیک پوسٹوں کے اہلکار بنیادی طور سبزیوں کو پسند کرتے ہیں اور فروٹ بھی کھالیتے ہیں کیونکہ سبزیوں کی طرح فروٹ کے بھی فوائد ہیں۔سیزن کے حساب سے فروٹ کے ذائقوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں مثلاً کینو، مالٹے ، تربوز اور خربوزے وغیرہ وغیرہ۔پولیس سمیت سب لوگوں کو اپنی صحت کیلئے سبزیوں اور پھلوں کو ترجیجی دینی چاہیے اور ان کے فوائد سے مستفید ہونا چاہیے لیکن آج کل سبزیوں اور فروٹ کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں، اس لئے غریب آدمی سبزی اور فروٹ نہیں کھا سکتا ۔ وطن عزیز پاکستان میں درمیانہ طبقہ تقریباً ختم ہوگیا، بہرحال درمیانے طبقے کو احتیاط سے سبزی اور فروٹ کھانے چاہیے کیونکہ ان کی جیب سبزی اور فروٹ کھانے کی عیاشی کی اجازت نہیں دیتی ۔پاکستان

میں ایلیٹ طبقہ سبزی اور فروٹ سمیت ہر چیز کھاسکتے ہیں اور وہ آسانی سے ہضم بھی کرسکتے ہیں جبکہ غریب لوگ نہ کھاسکتے ہیں اور نہ ہی ہضم کرسکتے ہیں۔پاکستان میں غریب لوگ کھائیں گے تو سیدھا جیل جائیں گے۔قارئین کرام ! محکمہ پولیس سمیت دیگر اداروں کے ملازمین کا چیک اینڈ بیلنس سسٹم ہونا چاہیے۔جزا اور سزا کا بہترین نظام بھی ہونا چاہیے۔علاوہ ازیںصرف پولیس اور پٹواری نہیں بلکہ تما م ادارے کے ملازمین سمیت ہر شہری کو اپنی گریباں میں جھانکنا چاہیے اور اپنے اعمال کو دیکھنا چاہیے۔حلال اور حرام کی تمیز ہونی چاہیے۔ جو لوگ اپنے بچوں کو حرام کھلاتے ہیں، پھروہ بچے ان کے کام نہیں آتے ۔حرام کھانے والے بچوں سے اچھائی کی قطعی توقع ہی نہ رکھیں۔لہذا پولیس سمیت تمام اداروں کے ملازمین اور سب شہری رزق حلال کمانے کی کوشش کریں کیونکہ جو تسکین اورلطف رزق ِحلال میں ہے ، وہ کسی چیز میں نہیں ہے۔وطن عزیز پاکستان اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا۔ اسلام سچا اور عملی مذہب ہے۔اسلام پر عمل پیرا شخص ہی دنیا اور آخرت میں کامیاب و کامران ہوسکتا ہے ۔