اگر بھارت نے اشتعال انگیزی کو ختم نہ کیا تو پاکستان کیلئےخاموش تماشائی بنے بیٹھے رہنا مشکل ہو جائے گا ، وزیراعظم

اسلام آباد (نیوز ڈیسک )وزیر اعظم عمران خان نے لائن آف کنٹرول(ایل او سی) کی بھارت کی جانب سے مستقل اشتعال انگیزی پر عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ اگر بھارت کی جانب سے حملوں ار نہتے شہریوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ نہ رکا تو پاکستان کے لیے خاموش رہنا مشکل ہو جائے گا۔گزشتہ دنوں بھارتی فورسز کی جانب سے کوٹ کٹیرہ سیکٹر کے گاؤں جگال پل پر بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں 36 سالہ شمیم بیگم شدید زخمی ہو گئی تھیں۔وزیر اعظم نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ایل او سی اس پار نہتے شہریوں پر مقبوضہ بھارتی افواج کے شدت پکڑتے اور معمول بنتے حملوں کے پیش نظر لازم ہے بھارت سے سلامتی کونسل عسکری مبصر مشن کی مقبوضہ کشمیر میں فی الفور واپسی کا مطالبہ کیا جائے۔انہوں نے ایک

مرتبہ پھر بھارت کی جانب سے کارروائی کا اندیشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ہندوستان کی جانب سے ایک خودساختہ/جعلی حملے کا سخت اندیشہ ہے۔اس موقع پر وزیر اعظم نے عالمی برداری کو بھی خبردار کیا کہ اگر بھارت کے حملوں کا سلسلہ نہ رکا تو پاکستان کے لیے خاموش رہنا مشکل ہو جائے گا۔عمران خان نے کہا کہ اگر بھارت ایل او سی پار عسکری حملوں میں نہتے شہریوں کے بہیمانہ قتل عام کا سلسلہ جاری رکھتا ہے تو پاکستان کے لیے سرحد پر خاموش تماشائی بنے بیٹھے رہنا مشکل ہو جائے گا۔یاد رہے کہ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے اس پار بھارتی فوج کی جانب سے کی گئی بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں خاتون کے زخمی ہونے کے واقعے پر گزشتہ روز اسلام آباد میں تعینات بھارتی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرکے شدید احتجاج کیا گیا تھا۔