جامعہ کامسیٹس:تنخواہوں میں تاخیر سے اساتذہ و ملازمین عید کی خوشیوں سے محروم

اسلام آباد(نمائندہ خصوصی)کامسیٹس اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن نے جامعہ کے اساتذہ و ملازمین کی تنخواہوں میں بے جا تاخیر پر شدید تحفظات اور غم و غصہ کا اظہار کیا ہے۔ اس کے باوجود کہ حکومت پاکستان نے 4 مئی 2020 کو بذریعہ نوٹیفکیشن No.4(4)Exp-III/2011 میں واضح الفاظ میں تمام اداروں کو ہدایات جاری کی تھی کہ تنخواہیں عید سے قبل جاری کر دی جائیں۔ بدقسمتی سے جامعہ کامسیٹس کی انتظامیہ کی نااہلی کے باعث اساتذہ و ملازمین کا ایک بڑا حصہ اس حکومتی حکم سے فائدہ نہ اٹھا سکا اور تاحال اساتذہ و ملازمین تنخواہوں سے محروم ہیں۔ پریشان کن بات یہ ہے کہ جامعہ کامسیٹس جیسے اعلیٰ تعلیمی ادارے کی انتظامیہ نے اس تاخیر سے اساتذہ و ملازمین کو آگاہ کرنا بھی مناسب نہ سمجھا جو اس وبائی صورتحال میں بھی اپنے فرائض تندہی سے سرانجام دے رہے ہیں۔

جامعہ کامسیٹس وطن عزیز کی چند جامعات میں سے ایک ہے جہاں تعلیمی سرگرمیاں جاری رہیں۔لیکن انتظامیہ کی جانب سے اس بات کو سراہا جانا تو دور کی بات الٹا تنخواہیں تک نہ جاری کی گئی۔ جس پہ اساتذہ و ملازمین شدید مایوسی کا شکار ہیں۔چونکہ موجودہ سمسٹر کے لیے طلبہ و طالبات فیسز پہلے ہی ادا کر چکے ہیں اور مارچ سے لاک ڈاؤن کے سبب جامعہ کی بندش کی وجہ سے دیگر اخراجات میں قابل ذکر کمی ہوئی ہے اس کے باوجودتنخواہوں میں تاخیر پر جامعہ کے مالی امور کے انتظام و انصرام پہ سنجیدہ سوالات سامنے آتے ہیں۔ ASA-CUI یہ سمجھتی ہے کہ تنخواہوں میں تاخیر سمیت جامعہ کو درپیش تمام مسائل کی ذمہ دار موجودہ ایڈہاک انتظامیہ ہے جس کا صرف ایک ایجنڈا ہے کہ کسی بھی طرح جامعہ کے موجودہ ایڈہاک ازم کو دوام مل جائے جو تین سال سے زائد عرصے پہ مشتمل ہو چکا ہے۔کامسیٹس اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن عزت ماب صدر پاکستان اور چانسلر جامعہ کامسیٹس جناب عارف علوی صاحب، وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب اور وزیر سائنس و ٹیکنالوجی اور پرو چانسلر جامعہ کامسیٹس جناب فواد چوہدری صاحب سے یہ درخواست کرتی ہے کہ تنخواہوں کی بندش/ تاخیر جیسے انتہائی اہم نوعیت کے معاملے کا نوٹس لیں اور اس کے ساتھ ساتھ جامعہ کے دیگر تمام دیرینہ مسائل کے حل کے لیے اور موجودہ ایڈہاک انتظامیہ کے خاتمے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔

اس سلسلے میں اسلام ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جناب اطہر من اللہ صاحب کےواضح ہدایات موجود ہیں کہ جامعہ کامسیٹس میں ایڈہاک سیٹ اپ کا خاتمہ جلد از جلد کیا جائے۔ حکومت میں موجود متعلقہ ارباب اختیار سے گزارش ہے کہ معزز عدالت کی ڈائریکشن کو مدنظر رکھتے ہوئے ضروری اقدامات عمل میں لائیں۔ ASA-CUI یہ مطالبہ بھی کرتی ہے کہ جامعہ کا انتظامی و مالیاتی فرانزک آڈٹ کرایا جائے تاآنکہ ان تمام ذمہ داران کا تعین کیا جاسکے جن کی وجہ سے جامعہ زوال کی جانب گامزن ہے۔