نیا پاکستان اور پرانے مستری ۔۔۔ تحریر: شیر محمد اعوان

سائنسی تحقیق کے مطابق رات بھر دیکھا گیا طویل تر خواب بھی حقیقت میں 38 سیکنڈ سے زیادہ نہیں ہوتا. بالکل اسی طرح عمران خان صاحب کی بائیس سالہ عظیم جدو جہد سے بُنا نئے پاکستان کا خواب جب شرمندہ تعبیر ہوا تو اگلے بائیس ماہ میں ہی ایک ریڑھی والے سے لے کر بیورو کریٹ تک ہر شخص کو ادراک ہوا کہ اس خواب کی عمر بھی اتنی مختصر ہے. نئے پاکستان کی ہر اینٹ اگرچہ بلند و بانگ نعروں کی حدت سے کندن بنائی گئی اور مثبت رپورٹنگ کی پالش سے چمکتی اینٹوں سے نئے پاکستان کی تعمیر کا ٹھیکہ پرانے پاکستان کے مستریوں کو دے دیا گیا. پرانے پاکستان کے نقشہ کی درستی کرتے کرتے چند ماہ بعد پتہ چلا کہ اسکی کوئی کل سیدھی نہیں. معیشت کے آئی سی یو وارڈ سے منتقلی کا ایمرجنسی گیٹ منفی گروتھ کے سمندر میں جا کھلا جہاں آدم سمتھ اور لینن سے دور حاضر کے معیشت دانوں تک اپنی تھیوریاں پیٹتے نظر آئے.
خزانہ بھرنے والے کمرے کی دیواریں خستہ ہونے کے ساتھ گنیہ بھی نہ تھی. اب جب روزانہ کی بنیاد پر اربوں روپے کی منی لاندرنگ، چوری نئے پاکستان میں ممکن نہیں رہی اس پر ٹیکس کلیکشن بھی ڈبل ہونے کا وعدہ پورا کرنے کیلیے جب پانچ چیئرمین تبدیل ہوتے ہیں تو ایک ان پڑھ گوار بھی یہ اندازہ لگا سکتا ہے کہ خزانہ چند ماہ میں بھر جایے گا. تو پھر ظاہری بات ہے وہ بوسیدہ اور زمین دوز خزانے کا کمرہ یہ بوجھ برداشت نہیں کر پائے گا اس صورت حال کے پیش نطر پرانے پاکستان کے اسی مستری کو ڈھونڈا اور منت سماجت سے راضی کیا کہ بھائی یہ جو دیواریں آپ نے ٹیڑھی بنائی انکو آپ ہی سیدھا کر سکتے ہیں. یہ ایسا عقلمندانہ فیصلہ تھا جس کے نتائج فوری ظاہر ہوئے اور ایسی اصطلاحات ہوئی کہ ٹماٹر سے چینی تک سب ایک صف میں آگئے. قرضوں کے ناسور سے ایسی جان چھڑائی کہ چند ماہ میں 29000 قرض کی بلند دیوار کو 42800 تک زمین بوس کر دیا. قرض لینے والوں کے منہ پر ایسے زور سے نعروں کے اربوں ڈالر مارے کہ بلبلا کر وہ ملین ڈالر کے ساتھ ادھار تیل دینے پر مجبور نظر آئے. آئی ایم ایف کے مزدور ہمارے خزانہ کے کمرے پلستر کرتے نظر آ رہے ہیں. اس سے نئے پاکستان میں نوکری ڈھونڈنے آنے والے خواب کی تعبیر بھی پوری طرح شرمندہ ہوئی اوہ معذرت شرمندہ تعبیر ہوئی.
اب گھر، دوکان یا مکان نیا ہو اور ہلہ گلہ نہ ہو تو تسکین نہیں ہوتی. اس غرض سے نئے پاکستان کی تعمیر جوں جوں آگے بڑھی شور شرابے اور ہلہ گلہ کے لیے پرانے پاکستان کی جلا وطنی کاٹنے والے دہشتگردوں کو دوبارہ ٹھا ٹھو اور ہلچل کی نوید سنائی اور انکی بھی مہربانی کہ انہوں نے شرمندہ نہیں کیا اور جلا وطنی کو دل پر نہ لیتے ہوئے کئی شہروں میں اچھے خاصے پٹاخے چلا دیے. بارڈر سے سٹاک مارکیٹ تک پرانے پاکستان کا سورج نئے پاکستان میں ڈوبتا نظر آیا.نئے پاکستان میں ٹانگ کھنچوائی رسم کا بھی خاتمہ ہوا ایسی یکجہتی اور اتفاق نظر آتا ہے کہ بندہ عش عش کر اٹھتا ہے. مثال کے طور پر ریلوے کا مستری آپکو پارلیمنٹ سے ایسٹیبلشمنٹ کی سڑک بناتا نظر آئے گا، پوسٹل سروسز والا معیشت پر مفید مشورے دیتا دکھائی دے گا، ماحولیات کو وزیراعظم کی مسکراہٹ سے معطر کرنے سے لے کر جان اللہ کو دینے تک ہر بندہ انتہائی متحرک اور جانفشاں دکھائی دے گا.ان. معماروں کی انتھک اور شبانہ روز محنت نے عروج کی نئی داستانیں رقم کی ہیں.چینی آٹا، دوائی، دال، سبزی، پھل کی قیمتیں زمین سے آسمان چھوتی نظر آتی ہیں. جو ترقی اور عروج کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
سوشل میڈیا ورکرز نئے پاکستان میں فضول وقت ضائع کرنے کی بجائے ایک خاص سمت میں کام کرتے پائے جاتے ہیں. قدیم اور دقیانوسی طرز تکلم اور فن تحریر جس میں لکھنوی ادب جھلکتا تھا اب نئی سطور پر بدل دیا گیا ہے. ان ورکرز کی جان نثاری بھی تاریخ میں لکھی جائیگی کیونکہ یہ انتہائی ایمانداری اور غیر جانبداری کے جذبہ سے لبریز یہ ٹائیگر گالی گلوچ کی ٹیکنالوجی کے استعمال سے ہر چیز کا دفاع کرتے ہیں. غیر جانبداری ایسی ہے کہ اپنا فریضہ ادا کرتے ہوئے یہ اپنے پرائے، چھوٹے بڑے بھائی بہن، شاگرد استاد کسی کا لحاظ نہیں کرتے. جرمنی جاپان کے بارڈر سے سمندر میں گیس کی لیکج تک یہ سپیڈ کی لائٹ سے کام کرتے نہیں تھکتے.
نئے پاکستان کی اپوزیشن بھی خیر پرانے سے بہت مختلف ہے. اسمبلی اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن کے وزراء ایک دوسرے کا شجرہ نصب درست کرتے محبت اور رواداری کی اعلی مثال قائم کرتے نظر آتے ہیں اور کبھی بھی آپکے معاملات اور مسائل پر بات کر کے آپکو ڈسٹرب نہیں کرتے. ہاں اپ اپنے طور پر اس بزم ادب یا تقریری مقابلہ سے محظوز ہو سکتے ہیں.
اقبال کے افکار باسی اگرچہ ولید کے افکار تازہ سے تبدیل ہو گئے جو اکثر ٹاک شوز کے زریعے ہمارے کانوں میں رس گھولتے ہیں. لیکن پھر بھی اقبال کی خواہش کے احترام میں نیا زمانہ، نئی سوچ اور نئے صبح شام کی کوشش جاری ہے. حساب کتاب اور اخلاقیات کی ایسی مثالیں ہر روز ملتی ہیں جو صرف نئے پاکستان میں ممکن ہیں. مثلا جعلی ڈگری والے پائلٹ اتنے تیز ہیں کہ پکڑنا ناممکن تھا. کیونکہ وہ 9 پرچہ جات میں نقل سے پاس ہوئے حالانکہ کل پرچے 8 ہوتے ہیں. اب یہ کرپشن صرف نئی سوچ اور نئی صبح شام والے ہی دھونڈ سکتے ہیں. خسارے میں جاتی ائرلائن کو بغیر کسی ٹنشن اور دباو کے اپنی موت آپ مار دینا ایک نیا فن ہے. عزیر بلوچ کا کونسا بیان سچ اور کونسا جھوٹ، جے آئی ٹی کونسی سچ اور کونسی جھوٹ، کونسا قرضہ قرضہ اور کونسا قرضہ پیکج، کون صحافی کون لفافہ، کون بزنس مین کون مافیا غرض ہر چھوٹی سے بڑی بات کو نئے زمانے اور نئی سوچ کا تابع کر دیا گیا. بے لگام. میڈیا کو نکیل ڈال کر گویا باور کروایا گیا کہ لوگ خود عقلمند ہیں انہیں حالات بتانے کی ضرورت نہیں
"شاکر تو آپ سیانا ایں
چہرہ پڑھ حالات نہ پچھ”
معیشت، ادارے، سیاست، کاروبار، تعلیم، صحت ہر چیز سوائے اخلاقیات کے آپکو 1951 کی سطح پر نظر آتی ہے. پرانے پاکستان کے قیام(1947) اور اس حکومت کے عمومی اختتام میں تین سال کا نمبر مشترک ہے. اگر اسی شدومد کے ساتھ کام جاری رہتا ہے تو امید کی جا سکتی ہے کہ نئے پاکستان کا قیام مکمل ہو گا. لیکن میں حیران ہوں کہ اس واضح تبدیلی کے باوجود کچھ بغض اور عناد سے بھرے لفافہ صحافی پتہ نہیں کیوں نالاں ہیں. جانے کیوں حکومتی لیلی انکو مجنوں نظر آتی ہےوہ اب بھی سمجھتے ہیں کہ حکومت کی کارکردگی کی چال سے تبدیلی کے چلن کی چولیں ڈھیلی ہوتی جا رہی ہیں.